2 ستمبر 2026 - 15:52
شہباز شریف: افغانستان سے دہشت گردوں کے حملے جاری رہے تو خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جب تک افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد گروہ پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک پر حملے کرتے رہیں گے، خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے علاقائی ممالک پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط کیا جائے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل 2 ستمبر کو بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اب بھی خطے کے لیے سب سے سنگین خطرات میں شامل ہے اور جب تک دہشت گرد گروہوں کو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل کی اجازت ملتی رہے گی، خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغانستان کی سرزمین سے پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں کو مؤثر انداز میں روکنا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد افراد کی جانیں گنوا چکا ہے جبکہ ملک کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔

وزیراعظم پاکستان، جو شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے (آر اے ٹی ایس) کی سربراہی بھی کر رہے ہیں، نے دہشت گردی کے خلاف علاقائی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی ہر شکل، بشمول ریاستی دہشت گردی، کی واضح اور دوٹوک مذمت ہونی چاہیے۔

پاکستان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد متعدد بار الزام عائد کر چکا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسے گروہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اسلام آباد نے طالبان حکومت سے ان گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha